الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Слово «мархаба»: происхождение и грамматика

سوال

لفظ مرحبا کی اصلیت اور اس کا اردو میں استعمال کا مطلب کیا ہے براہ کرم جواب میں ارقام فرمائیں کہ از روئے قواعد لفظ مرحبا کون کلمہ ہے یعنی اسم ہے یا فعل یا حرف۔ اگر فعل ہے تو مصدر ہے یا مشتق اگر مشتق ہے تو اشتقاق میں کون سی قسم ہے بول چال میں امر معلوم ہوتا ہے یا امر و نہی محض حروف ہے اور بطور مخاطب کے لئے مستعمل ہوتا ہے نتیجہ یہ ہے کہ اردو میں فقط حاضر کے لئے مستعمل ہوتا ہے یا غائب کے لئے لفظ مشترک کی حقیقت از روئے نحو قواعد معلوم ہو جائے۔ اس کے طریقہ استعمال پر کافی روشنی پڑے گی۔

جواب

مرحبا عربی میں ترکیب لغوی کے اعتبار سے مفعول مطلق مصدر میمی ہے یا صیغہ ظرف ہے بمنزلہ خوش آمدید مستعمل ہوتا ہے یعنی آپ بہتر جگہ تشریف لے آئے اس کو اپنا ہی مکان سمجھیں بے تکلف ٹھرئیے۔ کوئی پریشانی اور وحشت آپ کو نہ ہونی چاہئے یہ کوئی غیر جگہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو