Смысл персидского стиха о та'виле
سوال
کردمی تاویل بکر را خویش را تاویل کن نے ذکر را۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب
شعر کا حاصل یہ ہے کہ اپنے ذہن اور مذاق کی وجہ سے الفاظ قرآن میں تاویل نہ کرو کہ اصل معنی کو بدل کر دوسرے معنی کو مراد لینے لگو بلکہ اپنے ذہن اور مذاق میں تاویل کرو کہ اس کو قرآن کے موافق بناؤ۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔