وعظ کا نذرانہ
سوال
باہر سے مولوی صاحبان کو تقریر کیلئے بلایا جاتا ہے، اور عام چندہ کر کے ان کو کرایہ اور نذرانہ دیا جاتا ہے، اور عام دستور ہے اور علماء کرام کو معلوم بھی ہے کہ یہ نذرانہ چندہ کا ہے، تو چندہ سے نذرانہ کا دینا اور علماء کرام کا لینا جبکہ انہیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ چندے کا ہے اور چندے میں بالعموم جبر ہوتا ہی ہے، جائز ہے یا نہیں؟
جواب
کرایہ تو بلانے والوں کے ذمہ لازم ہے ہی، نذرانہ چندہ دینے والوں کی جانب سے ہو تو لا بأس به، اعلیٰ مقام یہ ہے کہ نہ کرایہ لیا جائے، اور نہ نذرانہ، بلکہ اپنے کرایہ سے جا کر حسبۃً للہ وعظ کہا جائے، وہ انشاء اللہ زیادہ مؤثر ہوگا، یا پھر مشاہرہ اور عملی طور پر طے کر لیا جائے، تا کہ اجارہ کی شکل ہو جائے، شامی میں تذکیر کی اجازت دی ہے مشاہرہ کی صورت یہ ہے کہ اتنی مرتبہ مثلاً ہر جمعہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔