قبر پر اذان دینا
سوال
ہمارے یہاں مردے دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دی جاتی ہے، یہاں کے امام نے بہشتی زیور، شامی وغیرہ کتب کے حوالہ سے بتایا کہ قبر پر اذان دینا درست نہیں، لیکن بعض لوگوں نے دفتر آستانہ دہلی سے اس بارے میں فتویٰ منگایا اس میں درمختار اور فتاوی رضویہ کے حوالہ سے قبر پر اذان دینے کو جائز لکھا ہے، صحیح کیا ہے مع حوالہ تحریر فرمائیں؟
جواب
یہ مسئلہ کتب احناف میں کتب شافعیہ سے نقل کر کے لکھا ہے اور کتب شافعیہ میں اس کی تردید بھی لکھی ہے براہ راست کتب احناف اس سے ساکت ہیں۔ مولانا احمد رضا خاں صاحب نے اس پرمستقل ایک رسالہ لکھا ہے مگر کوئی دلیل صریح اس کے ثبوت میں نقل نہیں کی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔