الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اذان کے بعد کچھ کلمات نصیحت

سوال

ہمارے یہاں کئی سال سے جمعہ کے روز مسجد میں اذان کے بعد صلوٰۃ پکاری جاتی ہے، پھر سب لوگ سنت نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں، بعد میں مؤذن عصا لے کر اِنَّ اللهَ، يَا لَقَدْ جَاءَ كُمُ یا اردو میں کچھ نصیحت کر کے وہ عصا امام صاحب کے ہاتھ میں دیتے ہیں، کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اگر ہے تو کسی معتبر کتاب حدیث سے معلوم کریں؟

جواب

یہ طریقہ نہ قرآن کریم میں ہے نہ حدیث شریف میں نہ خلفاء راشدین کے حالات میں نہ دیگر صحابہ کرام کے واقعات میں، نہ ائمہ مجتہدین کے فقہ میں، لہذا ایسی چیز اگر چہ صورة اچھی معلوم ہوتی ہو مگر در حقیقت وہ نہ خدا کا حکم ہے، اور نہ رسول کا حکم ہے، نہ مسئلہ فقہ ہے بلکہ وہ دین کے نام پر نئی چیز ہے، جس کو دین سمجھا جا رہا ہے، اس لئے اس کا ترک کرنا لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو