دعا میں توسل
سوال
ادھر میں نے تین حسب ذیل اقوال پڑھے تھے، (۱) حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ قبروں کو بوسہ دینے سے منع فرماتے ہیں، لیکن اہل قبور سے مدد طلب کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔ (۲) توسل جو احادیث سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ فلاں مقبول بندے کی برکت سے میری فلاں حاجت پوری فرما۔ (اصلاح الرسوم، مصنفہ حکیم الامت ص ۱۳۵) (۳) قبر پر فاتحہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہئے (نظام کا نپور ماہ جنوری، ص ۳۸، ۶۴ء)
جواب
اگر وہ بزرگ ایسے ہیں کہ جن کی بزرگی (ولایت) پر دلیل قائم ہے تو اس طرح دعا کی بھی گنجائش ہے کہ اے اللہ اپنے اس خاص بندے کے طفیل یا توسل سے میری دعا قبول فرما، لیکن مناسب واحوط یہ ہے کہ تخصیص نہ کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔