شاہد کا ترجمہ حاضر ناظر
سوال
زید کا عقیدہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حاضر وناظر ہیں، اور دلیل میں آیت وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَّنَذِيراً پیش کرتے ہوئے شاہد کا ترجمہ ”حاضر وناظر بنا کر بھیجا“ کرتا ہے سوال یہ ہے کہ کیا اس لفظ کا اطلاق آپ ﷺ پر درست ہے، حاضر وناظر اگر باری تعالیٰ کی صفت مختصہ ہو تو براہ کرم کتب حدیث وفقہ وعقائد میں صفحہ کے حوالہ سے اس کی نشاندہی فرمائی جائے؟
جواب
حاضر کا ترجمہ ہر جگہ موجود اور ناظر کا ترجمہ ہر ایک کو دیکھنے والا، اس معنی کے اعتبار سے یہ اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے، یعنی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں، وہ سب کو دیکھتا اور جانتا ہے لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ السِرَّ وَأَخْفَى عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُور بِكُلِّ شَيْئِي عَلِيمٌ بِكُلِّ شَيْئِي مُحيط۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔