عقیدہ حاضر وناظر
سوال
زید کہتا ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر وناظر نہ جانے اس کو قتل کردو، اس کے گھر میں آگ لگا دو، اور اس کے بال بچوں کو بھی قتل کر دو اگر تم مارے گئے تو شہید ہو گے، کیا ایسا کہنا درست ہے؟
جواب
دریافت کرنے کی ضرورت ہے کہ اتنا بڑا دعوی کس دلیل پر مبنی ہے، حالانکہ حدیث شریف میں آیا ہے ”سِبَابُ الْمُسْلِمْ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ، اور قرآن کریم میں ہے۔ قتل مؤمن کی سزا جہنم ہے اور بچوں کا قتل تو جہاد میں بھی منع کیا گیا ہے، اگرچہ وہ بڑے سے بڑے کافر کا بچہ ہوں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔