حاضر وناظر کا عقیدہ رکھنا
سوال
سورہ حجرات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺ کا ادب سکھایا ہے کہ دیوار کے باہر سے مت پکارو نہ ان سے سلام وکلام میں آواز بلند کرو جب باہر تشریف لائیں تب سلام وکلام کرو وغیرہ وغیرہ یہ سب دنیا کی زندگی کے واسطے بتایا اور اب بھی وہی حکم ہے، کیونکہ میلاد میں زور سے سلام پڑھتے ہیں، اور سینکڑوں کوس سے کیا حکم ہے؟
جواب
یہ سب ادب ہمیشہ کے لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص میری قبر کے پاس آکر صلوۃ وسلام مجھ پر بھیجتا ہے میں اس کو سنتا ہوں اور جو شخص دور سے پڑھتا ہے وہ ملائکہ کے ذریعہ پہنچایا جاتا ہے، آواز بلند کر کے پڑھنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ خود حضور ﷺ یہاں حاضر وناظر ہیں اور بلا واسطہ سنتے ہیں یہ عقیدہ غلط ہے اور اس سے توبہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔