الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا اللہ تعالیٰ ہر جگہ حاضر وناظر ہے؟

سوال

زید کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور اس کا عقیدہ بھی رکھتا ہے، اور قرآن شریف میں جو آیت کے معنی بتائے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جواب میں بکر کہتا ہے کہ یہ جو عقیدہ عوام میں رائج ہے، معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ ہر جگہ حاضر ہے، موجود ہے، اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ علیم وخبیر ہے، زید اور بکر دونوں میں سے کون صحیح عقیدہ پر ہے؟ اور صحیح عقیدہ کیا ہے؟

جواب

ہر جگہ حاضر وناظر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کوئی جسم ہے جو ہر جگہ موجود ہے جیسے مثلاً کوئی آدمی ہو مکان کے مختلف کمروں میں آئے جائے، ایک کمرے میں تو دوسرے کمرے میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ایک جسم ہے پاک نا پاک ہر جگہ موجود ہے، یہ عقیدہ غلط ہے وہ جسم وجسمیات سے بالا تر ہے، البتہ اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے وہ ہر جگہ حاضر وناظر ہے، کوئی شئی کوئی جگہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو