الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بشر بھی ہیں نور بھی ہیں

سوال

کلام پاک کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بشر کا لفظ بھی آیا ہے، اور نور کا لفظ بھی آیا ہے” قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ الآيَة قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مبين؟ ان دونوں آیتوں کا مطلب کیا ہے، واضح طور پر لکھیں، اگر ہم حضور ﷺ کو صرف نور مان لیں اور بشر نہ مانیں یا بشر مانیں نور نہ مانیں اور خدا کو ہر جگہ حاضر وناظر نہ سمجھنا اور حضور کو سمجھنا کیسا ہے، اور نور سے کیا مراد ہے؟

جواب

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ نے بشر قرار دیا، اور بشریت کے اعلان کا حکم فرمایا، تو پھر آپ کو بشر نہ ماننا خدائے قہار کا مقابلہ کرنا ہے، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرمایا گیا ہے، جب کہ قرآن کریم کو بھی نور فرمایا گیا اس کا مطلب خود قرآن شریف میں موجود ہے: یعنی آپ کی ہدایت پر عمل کرنے سے آدمی بادیہ ضلالت کی تاریکیوں سے نکل کر سبیل الرشاد اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو