الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حاضر وناظر اور مقلب القلوب وغیرہ

سوال

زید کہتا ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر وناظر اور مقلب القلوب ہیں اور ملک اور ملکوت کا مشاہدہ فرمارہے ہیں، اور امت کے احوال وافعال حرکات وسکنات دلوں کے خطرات سے آگاہ ہیں، اپنی امت کو دیکھتے ہیں، ان کی نیت ارادے اور دل کی باتوں سے واقف ہیں، دین پر چلنے والے کے رتبہ سے، اچھے برے کاموں، اخلاص ونفاق سے واقف ہیں، اس کا دین اور ایمان کس درجہ کا ہے؟ (کیا یہ قول صحیح ہے؟) زید اپنے قول کی تائید میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ نیز معتبر علماء ومشاہیر کے اقوال معہ حوالہ کتب ذیل پیش کرتا ہے۔

جواب

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تبارک وتعالیٰ سے خود ہی دعا کیا کرتے تھے يا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک الحدیث امت کے جو احوال حضور اقدس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بتا دیئے وہ معلوم ہو گئے، جو نہیں بتائے نہیں معلوم ہوئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو