سفیر اور منتظم کے درمیان اختلاف ہو تو ایک کو حکم بنالیا جائے
سوال
ایک صاحب کو مدرسہ میں ملازم رکھا گیا جن سے مندرجہ ذیل باتیں طے پائیں۔ (۱) سفارت (۲) مدرسہ میں مقیم ہونے پر تعلیم و تدریس کا کام۔ معاوضہ اسی روپے۔ ترقی پانچ روپے ماہوار، سوروپے پر ترقی بند۔ سال میں ایک ماہ کی رخصت آنے جانے کا خرچہ۔ لیکن انہوں نے حسب ذیل خلاف ورزیاں کیں۔ (۱) ایک بار بغیر اجازت صرف اطلاع دے کر مدرسہ میں تالا ڈال کر چلے گئے۔ (۲) گھر سے واپسی پر تاخیر سے پہونچے (۳) سفارت کا پروگرام بنا کر چلے گئے۔ راستہ سے لکھا کہ ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کام نہیں کروں گا اور فلاں مقام پر کام نہیں کروں گا۔ (۴)
جواب
یہ نزاعی شکل ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ سفیر صاحب اپنا بیان تحریر کر دیں اور دونوں فریق باہم مشورہ کر کے کسی کو ثالث (حکم) مان لیں اور اس کے فیصلہ پر راضی ہو جائیں۔ ورنہ ایک طرفه بیان پر حکم تحریر کرنے سے نزاع ختم نہیں ہوگا۔ دوسرا فریق سائل کی تغلیط کر دے گا۔ متفقہ بیان پر حکم کا فیصلہ دونوں کے لئے قابلِ تسلیم ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔