الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کے سفیر کا دھوکہ دینا

سوال

اگر زید کسی بڑے ادارہ میں اس شرط پر سفیر ہے کہ رمضان میں کبھی اس ادارہ کے کام کو نہیں چھوڑے گا اور دستور کا پابند رہے گا۔ لیکن زید دھوکہ دے کر بغیر استعفیٰ دیئے چلا گیا اور مدرسہ کے خلاف پروپیگنڈہ کیا۔ کہیں مدرسہ کے نام پر چندہ کیا اور ڈبہ توڑ کر رقم نکال کے مدار لی۔ تو کیا ایسا شخص قابل لعن وطعن نہیں ہے؟ کیا اس پر مقدمہ دائر کیا جائے؟ اور اس سے تنخواہ واپس لینا درست ہے یا نہیں؟

جواب

اگر واقعہ اسی طرح ہے تو وہ شخص بہت ہی قابل ملامت ہے۔ جس مدرسہ کا مال لیا ہے اس سے واپس لیا جائے۔ غیر حاضر رہ کر جو تنخواہ لی ہے وہ بھی واپس لے جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو