الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنا پیسہ وارث کو دے یا مدرسہ میں؟

سوال

ایک آدمی کے پاس زکوۃ کا روپیہ آیا۔ وہ آدمی نابینا تھا اور پیروں سے معذور تھا۔ موصوف نے وہ روپیہ کسی اور آدمی کے پاس بطور امانت رکھ دیا اور پھر ان کا انتقال ہو گیا۔ مرحوم کا کوئی وارث نہیں ہے۔ صرف مرحوم کا ایک بھانجہ حیات ہے اور مرحوم کے نزدیک وقت نزع امین بھی نہیں تھا اور نہ مرحوم نے کسی دوسرے کے لئے کوئی وصیت کی۔ تو اب امین یہ رقم مدرسہ میں دے یا بھانجہ کو دے یا غریب کو دے؟

جواب

بھانجہ بھی ایک قسم کا وارث ہے اگر اس سے قریب تر کوئی مستحق وارث نہیں تو بھانجہ کو دیدے۔ مدرسہ میں دینے کا حق نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو