الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرس کو جو کھانا دیا جائے وہ اباحت ہے یا تملیک؟

سوال

یہاں مدرسہ میں تنخواہ کے ساتھ کھانے ناشتہ کا بھی نظم ہے۔ گاؤں والے کھانا باری سے دیتے ہیں۔ کم ہو جائے تو مطالبہ نہیں، زیادہ ہو تو واپس نہیں ہوتا۔ یہی معمول ہے۔ اگر کوئی مسافر ہو تو ساتھ میں کھا لیتا ہے، کسی کو اعتراض نہیں ہوتا ہے۔ کھانا گاؤں کے کسی فرد کو کھلائیں تو اعتراض ہوتا ہے۔ لیکن لوگ کھل کر کچھ نہیں کہتے۔ ان سے پہلے مدرس تھے وہ کھانا اپنے گھر لے جا کر کھاتے تھے، اس پر لوگوں کا خیال تھا کہ مدرسہ ہی میں کھائیں تو بہتر ہے کہ دو تین کھانوں میں ایک آدمی اگر زائد آجائے تو وہ بھی شریک ہو جائے۔

جواب

جب کھانا مدرس کے پاس بھیج دیا اور اسکو یہ بھی اختیار ہیکہ جس مہمان یا جس مسافر کو چاہے اپنے ساتھ شریک کرلے اور جو کھانا بچ جائے اسکی واپسی نہیں ہوتی۔ نیز تنخواہ کے ساتھ کھانے کا بھی معاملہ ہے تو یہ سب علامات ہیں کہ یہ کھانا ان کو تملیکاً دیا جاتا ہے اباحہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو