تنخواہ کے لئے حیلہ تملیک کی صورتیں
سوال
یہاں اس شہر میں ایک مدرسہ ہے جس میں شہر کے بچوں کو ناظرہ قرآن اور نماز وغیرہ کے ضروری مسائل کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اب مندرجہ ذیل امور قابل التفات ہیں۔ (۱) بچے سب اسی شہر کے ہیں اور صبح کو ایک گھنٹہ اور شام کو ایک گھنٹہ یہاں تعلیم پاتے ہیں، اور پورے دن سرکاری پرائمری اسکول میں پڑھتے ہیں۔ (۲) رمضان شریف میں اس مدرسہ کے لئے شہر سے زکوۃ کا روپیہ وصول کیا جاتا ہے اور اخراجات میں سوائے تنخواہ مدرسین کے کوئی دوسری مد نہیں ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟ (۳) کیا حیلہ تملیک کے بعد مدرس کو تنخواہ دینا جائز ہے؟
جواب
اگر بیرونی بچے اس مدرسہ میں نہیں سب مقامی ہیں اور غریب و نادار ہیں تو ان کو بطور وظیفہ زکوۃ کا پیسہ دیدیا جائے جس سے زکوۃ ادا ہو جائے۔ پھر ان کے اولیاء سے کہا جائے کہ وہ اس بچے کی فیس مدرسہ میں داخل کر دیں۔ اور وہ پیسہ بچوں سے لے کر فیس دیدیں۔ اس فیس سے تنخواہ وغیرہ کا کام چل سکتا ہے۔ بچے اگر بالغ ہوں تو خود ان سے بھی فیس میں وہ پیسہ لینا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔