الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ کی تعطیل کلاں کی تنخواہ جبکہ تعطیل کے ختم پر دوسری جگہ چلا گیا

سوال

(۱) زید بحیثیت عربی مدرس ایک ادارہ میں ملازم تھا اور مستقل تھا۔ جمادی الاولی میں ساز باز کر کے دوسری جگہ ملازمت کی بات کی اور رمضان شریف میں تقرر کرالیا۔ شعبان میں رخصت پر گیا اور بعد رمضان نئی جگہ پر چلا گیا۔ اور شعبان اور رمضان کی تنخواہ دھوکہ سے لے لی۔ جبکہ اس ادارہ کا قانون ہے کہ کم از کم ایک ماہ قبل استعفیٰ دے اور اس ماہ کام بھی کرے تا کہ ادارہ دوسرے معلم کا انتظام کرلے۔ لیکن زید نے اس کے خلاف کیا۔ پورے شوال غیر حاضر رہ کر ذی قعدہ میں اپنے نہ آنے کو مطلع کیا۔

جواب

(۱) اگر وقت ملازمت تعطیل کے متعلق کوئی معاملہ طے نہیں ہوا تو دیگر مدارس میں جو کچھ تعامل ہے اس کے مطابق عمل کیا جائے وہ یہ ہے کہ ماہ شعبان میں سالانہ امتحان سے فراغت پر تعطیل ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک کا پورا مہینہ تعطیل میں گذر جاتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو