تعطیل کلاں کی تنخواہ کا استحقاق
سوال
ایک دینی ادارہ جس میں چند مدرسین چند سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ اتفاق سے گذشتہ درمیان سال میں مہتمم صاحب سے کچھ مدرسین کو شکایت ہوئی جس کی وجہ سے حسب قانون مدرسہ مدرسین نے استعفا دیدیا یعنی ایک ماہ سے پیشتر۔ مگر مہتمم صاحب اور دوسرے اراکین نے باصرار تمام اس معاہدہ پر کہ آئندہ رمضان کی ۳۰ تاریخ تک آپ لوگ استعفاء مؤخر کر دیں۔ اور ۳۰ رمضان تک کی تنخواہ آپ لوگوں کو دی جائے گی۔ گویا کہ آپ لوگ باوجود چھٹیوں کے اور اس کے بعد مدرسہ میں نہ آنے کی صورت میں ۳۰ رمضان تک مدرسہ میں ملازم ہوں گے۔
جواب
عموماً دینی مدارس کا ہمارے اطراف میں تعامل معروف یہ ہے کہ ختم سال ماہ شعبان کی جس تاریخ کو بھی فراغت ہو اس تاریخ کو تنخواہ تو بوجہ کار کردگی لازم ہوتی ہے اس کے بعد تعطیل کلاں ہوتی ہے۔ اس تعطیل کلاں (بقیہ شعبان، کامل رمضان، ابتداء شوال) کی تنخواہ کا استحقاق اس شرط پر ہوتا ہے کہ ملازم بعد التعطیل حاضر ہو کر کام میں مشغول ہو جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔