مدارس اسلامیہ کے لئے عیسائیوں سے امداد لینا
سوال
ہمارے یہاں ایک دینی مدرسہ ہے جس کی نہ کوئی ذاتی عمارت ہے اور نہ ہی حکومت سے کوئی امداد ملتی ہے۔ مدرسہ کے ذمہ داروں کے سامنے اس وقت مسائل در پیش ہیں۔ امید ہے کہ جناب والا شرعی حیثیت سے اس کا جواب مرحمت فرمائیں گے۔ مدرسہ کی بد حالی کو دیکھ کر بعض غیر ملکی عیسائیوں نے تمام اخراجات برداشت کرنے کا ذمہ لیا اور ایک وقفہ وقفہ سے کچھ رقم برابر ادا کرتے رہے جس سے مدرسہ کی عمارت، اساتذہ کی تنخواہ اور طلباء کی کفالت وغیرہ کا کام لیا جاتا ہے۔
جواب
کوئی بھی غیر مذہب کا آدمی اہل اسلام کے دینی کام کے لئے کار ثواب سمجھ کر روپیہ دے تو فی نفسہ اس کا لینا اور وہاں صرف کرنا شرعاً درست ہے جبکہ اس میں کوئی مفسدہ نہ ہو۔ عیسائی لوگ جو رقم دین اسلام کے مدرسہ کے لئے دیتے رہتے ہیں اس سے ان کی کچھ غرض ہوتی ہے۔ وہ اہل اسلام کو زیر احسان رکھتے ہیں، اپنے اخلاق کا اثر ڈالتے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔