الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقت ضرورت خرچ نہ کرنا بھی خیانت ہے

سوال

مدرسہ اسلامیہ کی رقم مبلغ ۴۰۰ روپے ہیں۔ اور یہ روپے مدرسہ کے صدر پر ہیں۔ وہ مدرسہ کا روپیہ نہ تو مدرسہ میں لگاتے ہیں اور نہ طلب کرنے پر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کے گروپ کے ہیں۔ اس کو صدر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کو صدر رکھا جائے یا نہیں؟

جواب

اگر مدرسہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے، اسکے باوجود یہ رقم وہ مدرسہ میں نہیں دیتا، نہ خود ضرورت پوری کرتا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسکا روپیہ اپنے کام میں صرف کر لیا، تو مدرسہ کے ممبر و با اثر لوگ مطالبہ کریں۔ اگر خدا نخواستہ خیانت ثابت ہو جائے تو اسکو صدارت سے الگ کر دیں اور رقم وصول کر کے کسی دیانتدار کوذمہ دار بنا ئیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو