الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرسہ میں پیسہ بلا احتیاط خرچ ہوتا ہو تو ایک کمیٹی بنالی جائے

سوال

مدرسہ میں کسی قسم کا کوئی قانون نہیں ہے اور نہ کوئی دستور بنا ہوا ہے۔ ناظم جس وقت جو کچھ زبان سے نکال دے وہی دستور ہے۔ جب چاہتا ہے بلا اطلاع تنخواہ کاٹ لیتا ہے۔ بلا عذر مدرسوں کو ملازمت سے الگ کر دیتا ہے۔ اس کا یہ فعل کیسا ہے؟

جواب

ارباب خیر واہل صلاح کی ایک کمیٹی بنالی جائے اور کسی با وجاہت اہل علم، اہل تقویٰ، تجربہ کار کوسر پرست تجویز کر لیا جائے تا کہ حساب و کتاب درست ہو۔ ہر مد کا پیسہ اسی مد میں خرچ ہو، اور کسی بڑے مدرسہ کا دستور سامنے رکھ کر (مثلاً دارالعلوم دیو بند کا) اس مدرسہ کے مناسب دستور بنا لیا جائے تا کہ بے راہ روی نہ ہونے پائے اور لوگوں کو یہ اعتراض و بدگمانی کا موقعہ نہ ملے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو