الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

منتظمین کا تعلیم کے بجائے عمارت، بیل وغیرہ پر دھیان دینا

سوال

ایک ادارہ میں مالی وسعت کافی ہے وہ ادارہ علمی اعتبار سے مرکزیت حاصل کر سکتا ہے مگر افسوس کہ منتظمین کی کج اندیشی، خود غرضی اور مفاد پرستی پر کہ وہ ادارہ کو ترقی دینا نہیں چاہتے اور جتنی تعلیم اس وقت ہے اس کی جائیداد موجودہ تعلیم و طلباء ومدرسین پر خرچ کرنے کے لئے کافی ہے۔ نیز اس جائیداد کا غلط مصرف ہے زمین کا خریدنا، مقصد اصلی تعلیم سے ہٹ کر بیلوں اور کاشت و عالیشان عمارت پر خرچ کرنا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ عند الشرع یہ سب باتیں درست ہیں یا نہیں؟ نیز اس کے لئے چندہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

جب ادارہ کے پاس مالی وسعت اتنی ہے کہ بغیر چندہ اور بغیر زکوۃ لئے ہوئے اس کے مصارف پورے ہو سکتے ہیں تو اس کو چندہ نہ مانگنا چاہئے، نہ زکوٰۃ معطی حضرات بھی ایسے ادارہ کو نہ دیں بلکہ جو مدرسہ غریب اور مستحق ہو اور دینی تعلیم و تربیت اخلاق میں زیادہ کوشاں ہو وہاں دے۔ علم دین کے ادارہ کا اصلی مقصد دینی تعلیم و تربیت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو