ادارہ کو مخالف گروپ کی تباہی سے بچانے کیلئے کیا صورت اختیار کی جائے؟
سوال
ایک شخص ایک ادارہ کا سر براہ ہے عالم بھی ہے، کچھ روز سے اس میں انانیت آگئی ہے، نو جوان لڑکیوں کو بے پردہ تعلیم دلاتا ہے۔ چونکہ کمیٹی میں اس کی اکثریت ہے، اس لئے اس کو الگ کرنا بھی دشوار ہے۔ اس ادارہ کے استاذ بھی تنگ آکر چلے گئے ہیں اور نئے استاذ آگئے۔ دو پارٹیاں ہیں، دونوں میں شدید اختلاف ہے۔ اس شخص نے مخالف پارٹی کو پریشان کرنے کے لئے پولیس میں رپورٹ اور مقدمہ بازی شروع کر دی ہے۔ اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کر کے لوگوں کو دباتا ہے۔ بعض کی آبرو ریزی کرتا ہے۔
جواب
جو چیز حرام اور معصیت ہے وہ سربراہ کے حق میں بھی حرام و معصیت ہے۔ کارکنوں، ممبروں، عوام کے حق میں بھی حرام ہے۔ ادارے کو تباہی سے بچانا سب کی ذمہ داری ہے۔ مگر اس کے لئے غلط طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ تنازع اور تقابل کے وقت ہر فریق اپنے کو حق پر سمجھتا ہے۔ مخلص و ہمدرد اسلام اور ادارے کا خیر خواہ قرار دیتا ہے۔ دوسرے فریق کو ناحق، غیر مخلص، اسلام سے بے تعلق، خود غرض قرار دیتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔