مدرسہ اور مسجد کیلئے کمیٹی بنانا اور اس کیلئے فیس مقرر کرنا وغیرہ
سوال
یہاں عموماً ہر مسجد و مدرسہ چلانے کا یہ طریقہ ہے کہ بستی کے مسلمان جمع ہو کر ایک سوسائٹی بناتے ہیں اور اس جماعت کا نام بھی رکھا جاتا ہے، بعض بستی میں دو دو تین تین جماعتیں الگ الگ نام سے ہوتی ہیں، اور ہر جماعت کے ذمہ دار الگ الگ ہوتے ہیں، یہ جماعت صدر ناظم اعلی، نائب ناظم اور خزانچی اور اراکین پر مشتمل ہوتی ہے اور بقیہ حضرات جو فیس ادا کرتے ہیں وہ ممبر کہلائیں گے، ان ممبروں کو بدلنے کا حق ہوتا ہے، اور جو فیس ادا نہیں کرتے ان کو بولنے کا حق حاصل نہیں (یہ حالت وہاں ہوتی ہے، جہاں متعدد جماعتیں ہوتی ہیں)
جواب
مسجد و مدرسہ وغیرہ دینی امور کی مشتر کہ انجام دہی کیلئے اس قسم کا انتظام کرنا اور کمیٹی بنانا شرعاً درست ہے، جن لوگوں نے رضا مندی سے ان امور کو منظور کیا ان کو پابندی لازم ہے۔ (۱) انتخاب کے لئے باہم رضامندی سے مدت متعین کرنا بھی درست۔ (۲) یہ فیس جن امور کی انجام دہی کیلئے ہے رضا مندی سے طے کر لینا درست ہے (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔