الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دینی مکاتب کی مخالفت کرنا

سوال

اس زمانہ میں یہ چھوٹے چھوٹے مکاتب ہیں ایک ایسا سرمایہ دین کا نظر آتے ہے کہ جن میں بچوں کو مذہبی باتوں سے روشناس کرایا جاتا ہے مگر بڑی مشکل کی بات یہ ہے کہ خود مسلمان اس کو چلنے نہیں دیتے اور آپسی اختلاف کے باعث ان کا قلع قمع کر دیتے ہیں یہاں شاہجہاں پور میں ایک دینی مدرسہ کی بنیاد قائم کی گئی کچھ لوگوں کی مساعی سے یہ کام چلتا رہا مگر چند لوگ ایسے ہیں جن کی فتنہ پردازی سے اس کی بنیاد بھی تزلزل میں ہوگئی اور اس سلسلہ کے ختم پر ہی آمادہ ہو گئے دریافت یہ کرنا ہے کہ ایسے لوگوں کے سلسلہ میں شریعت کیا کہتی ہے حضور پاک ﷺ…

جواب

آپس کا جو اختلاف و نزاع نفسانیت (جاہ پسندی وغیرہ) کی بناء پر ہو وہ سخت مذموم و قبیح ہے احادیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے اور اس قسم کی نزاعات سے دینی مکتب و مدرسہ بھی تباہ ہوتا ہو تو اس کا وبال بہت سخت ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمْ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو