غبن کے اتہام پر حساب دینا
سوال
ایک مذہبی ادارہ کے صدر و سیکریٹری پر عام معاونین ادارہ و دیگر مسلمانوں کو غبن کا شبہ ہوا۔ لوگوں نے آمد و خرچ کی رپورٹ طلب کی۔ صدر حساب دینے سے کترا رہے ہیں اور کہتے ہیں ادارہ کی تشکیل میں میری ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہے مجھ سے کوئی حساب نہیں لے سکتا جس سے لوگوں کو غبن کا یقین ہو گیا۔ کیا ایسے ادارہ سے تعلقات ختم کر لینا موجب گناہ ہے؟ اور صدر مذکور کا جواب اطمینان بخش و صحیح ہے؟
جواب
صدر، سکریٹری کا دعوی مذکور صحیح نہیں ہے، وہ محض وکیل ہیں مالک نہیں ہے۔ انہیں حساب دینے سے گریز نہیں کرنا چاہئے خاص کر جبکہ ان پر غبن کا شبہ کیا جارہا ہے۔ ان کو لازم ہے کہ ذمہ داران و ممبران وغیرہ کو حساب دکھلا کر مطمئن کر دیں اور بدگمانیوں اور تہمتوں کو دور کر کے اپنی پوزیشن صاف کر لیں۔ اگر کوئی رقم بے احتیاطی یا غلط فہمی سے بے موقع خرچ ہوگئی ہے تو اس کا انتظام کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔