خادم مسجد کو وراثت کا حق نہیں
سوال
(۱) قصبہ کی جامع مسجد میں زید کے دادا و والد بحیثیت مؤذن و امام مقرر تھے، دادا اور والد کے انتقال کے بعد زید اس کی جگہ نہ سنبھال سکا، لہذا مؤذن و امام دوسرے حضرات مقرر ہوئے، البتہ زید کے لئے وہی مراعات جو زید کے دادا و والد کے لئے اس وقت قصبہ کی طرف سے تھی بحال رہی لیکن اب ساکنان قصبہ زید کی کچھ نازیبا حرکتوں مثلاً مسجد کے انتظامی امور میں بیجا مداخلت وغیرہ کی بناء پر زید سے متنفر ہیں، اور تمام مراعات ختم کر رہے ہیں، شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔ (۲)
جواب
(۱) مسجد کے کسی خادم (مؤذن، امام) کی اگر خدمت مسجد کی وجہ سے مراعات کی جاتی ہے، تو وہ اسی خادم کی ذات بلکہ خدمت تک محدود رہتی ہے، اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی کہ خادم کے انتقال کے بعد ورثہ بھی استحقاق کی بنا پر مراعات کا مطالبہ کریں، مراعات نہ کرنے کی وجہ سے ان کو بیجا مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔