محض ضد کی وجہ سے مسجد چھوڑنا
سوال
صرف چند اشخاص جو اس کے ساتھ ہیں باقی تمام گاؤں کے مسلمان اس کے ساتھ شامل نہیں ہیں، اور وہ اشخاص جو کہ دائمی نمازی ہیں ان کو مطلقاً مسجد کے بنانے میں شامل نہ کیا بلکہ وہ اشخاص اب باہر در بدر نمازیں پڑھتے ہیں، آیا اس حال میں مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
محض ضد کی وجہ سے کہ ہمیں شامل نہیں کیا ہم سے مشورہ نہیں لیا، مسجد چھوڑنا اور در بدر نماز پڑھنا منع ہے، نماز مسجد ہی میں پڑھنی چاہئے، اور مسجد بنانے والوں کو بھی بغیر نمازیوں کے مشورہ کے مسجد میں تغیر کرنا یا گرانا بری بات ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔