مخصوص خاندان کا اپنی بنائی ہوئی مسجد کو اپنی ملک کی طرح سمجھنا
سوال
ایک مسجد کسی ایک مخصوص خاندان یا مخصوص انسان یا مخصوص قوم نے بغیر کسی قوم کے تعاون کے تعمیر کرائی اور پھر وقف فی سبیل اللہ کردی، بعدۂ جو کام ہوا عوام کے تعاون سے ہوا لیکن پھر بھی اس قوم یا خاندان یا انسان سے کوئی ایسی بات پیش آئی ہو جس سے عوام پر غلط اثر پڑتا ہو، یا اس کی حرکت سے مصلیان مسجد حیران ہوں اور اس کی حرکات وسکنات سے محسوس ہوتا ہو کہ یہ مسجد کو اپنی ملکیت سمجھ کر اس قسم کی ناجائز حرکات کرتا ہے تو ایسی صورت میں ایسی مسجد کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ اور ایسی قوم، ایسے انسان، ایسے خاندان کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
جو مسجد وقف کر دی گئی خواہ عوام کے پیسے سے اس کی تعمیر ہوئی ہو یا کسی خاندان کے پیسے سے یا کسی شخص خاص کے پیسے سے، بہر صورت وقف ہو جانے کے بعد اس پر کسی کا دعوی ملک کرنا صحیح نہیں، ”الوقف اذا تم ولزم لا يملك ولا يملك مختار)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔