الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر آباد مسجد میں میت دفن کرنا

سوال

ایک مسجد میں چند سال اہل محلہ نماز پڑھتے رہے، اور اصل مسجد جو پہلے سے بنائی گئی تھی، وہ اسکے سواء دوسری ہے یہ نئی مسجد صرف چند ایک امکنہ کے مالکوں نے گاہ گاہ نماز ادا کرنے کیلئے بنائی تھی، دراصل ان کی مسجد قدیمی بھی وہی ہے جو اصل مسجد پہلے بنائی تھی، اب چند سال کے بعد یہ نئی مسجد چونکہ اہل مسجد کے مرکھپ جانے سے ویران ہوگئی تھی، اس وجہ سے اگر اس میں کسی میت کو دفن کر دیا گیا ہو بعد میں بعض علماء کا فتویٰ ہے کہ میت کو قبر سے نکالدیا جائے اور بعض کا یہ فتویٰ ہے کہ اب میت کو بناء بر عبارت در مختار وشامی ” ولا يخرج آدم…

جواب

اگر مسجد فی الحال ویران ہے یعنی اس میں نماز نہیں ہوتی تاہم اس سے اس کی مسجدیت میں فرق نہیں آتا، اس کی مسجدیت ہمیشہ برقرار رہے گی، اس لئے اس میں مردوں کو دفن کرنا نا جائز ہے، کیونکہ یہ غرض بانی و واقف و احترام مسجد کے خلاف ہے، لیکن اگر عدم واقفیت کی بناء پر کسی کو دفن کر دیا گیا ہے تو اس کو قبر کھود کر نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے میت کی توہین ہوتی ہے، اور نبش قبر بلاحق آدمی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو