الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کی آبادی

سوال

(۱) ایک مسجد کے محلہ میں چار پانچ اقوام آباد ہیں ایک قوم کے تقریباً پندرہ سولہ گھر ہیں اور دیگر اقوام کے دو دو ایک ایک گھر ہیں، قوم کثیرین میں سے صرف دو تین آدمی نماز پڑھتے ہیں، باقی اسی قوم کثیر کے آدمی نہ نماز پڑھتے ہیں اور نہ کسی کے سمجھانے کو مانتے ہیں، اور نہ یہ قوم کثیر معہ نمازیوں کے وقت معینہ بجز ایک دو اشخاص کے پیش امام کی خدمت کرتے ہیں، اس لئے مسجد مذکورہ میں جو کہ قوم کثیر کے نام سے منسوب اور جتھ میں ہے کوئی امام نہیں ٹھہرتا اور اگر دیگر اقوام کے آدمی جن میں آٹھ نو نمازی ہیں یہ قوم کثیر کے ایک دو آدمی…

جواب

(۱) جماعت اصح قول پر واجب ہے اور بعض کے نزدیک فرض عین ہے بعض کے نزدیک فرض کفایہ ہے بعض کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے تارک جماعت بلا عذر پر تعزیر ہے، اگر سب ترک جماعت کی عادت کر لیں، تو امام کو ان سے قتال کرنا چاہئے۔ مگر ساتھ ہی محلہ کی مسجد کو آباد رکھنا بھی ضروری ہے، اگر تمام نمازی دوسری مسجد میں نماز کیلئے جائیں گے، یہ مسجد ویران ہو جائیگی اس لئے جہاں تک ہو سکے مصالحت اور نرمی سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو