الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضد کی وجہ سے پہلی مسجد کو گرانا

سوال

(۱) اگر مسجد کو امام، متولی سابقہ کے بغیر بنوالیں تو عندالشرع اس میں نماز جائز ہے یا نا جائز؟ (۲) گاؤں کے سابقہ نمازی اس مسجد میں نماز بالکل نہیں پڑھیں گے، کیونکہ ان کی رضا مندی کے بغیر بنائی جا رہی ہے، ان کی کوئی صلاح وغیرہ نہیں لی گئی، کیونکہ نمازیوں نے پچھلے سال ہی اس مسجد کی چھت دوبارہ ڈالوائی تھی، انہوں نے مسجد کو جبراً گرادیا آیا اس مسجد کی تعمیر جائز ہے یا نا جائز؟ (۳) اگر مسجد میں نماز پڑھنی نا جائز ہو تو کیا اور مسجد بنائی جائے، اور اس میں نماز پڑھی جائے تو جائز ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) ضد اور لڑائی کی وجہ سے مسجد کو گرانا اور ازسر نو بنانا گناہ ہے، تاہم اس میں نماز جائز ہے۔ (۲) بلا وجہ شرعی مسجد کو محض ضد کی بنا پر گرادینا حرام ہے، اور نمازیوں کو اس ناراضگی کی وجہ سے کہ ہم سے صلاح نہیں لی گئی، مسجد کو چھوڑ دینا بھی گناہ ہے، جب مسجد کسی نے جہالت اور حماقت سے گرادی ہے، تو اس کا تمام صرفہ اس گرانے والے کے ذمہ واجب ہے اس کے ذمہ اس کی تعمیر ضروری ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو