الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کو شہید کرنے سے ضمان

سوال

میاں جی نور بخش و مشیت اللہ و محمد احمد، عبد الرحمن، ورحیم الدین صاحب پسران، بعض مستریان موضع دھنورہ ٹیکری ضلع میرٹھ نے اپنے حصۂ ارض پر ایک کچی مسجد بنائی، مسجد بنا کر اذان و نماز با جماعت ادا کرنے لگے، عرصہ دراز کے بعد جب مستری میاں جی نور بخش صاحب کا انتقال ہو گیا اور عبد الرحمن نے موضع بر کٹہ سکونت اختیار کر لی تو مسجد میں اذان و جماعت کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مسجد ویران نظر آنے لگی تو رحیم الدین کو بطور امانت دے کر گیا تھا، جس کا کوئی معاوضہ استعمال پر نہ تھا، عبدالرحمن نے آکر اپنا مکان رحیم الدین سے…

جواب

(۱) جس نے مسجد کا جس قدر رو پیہ اس کو گرا کر ضائع کیا اس کا ضمان لازم ہے، اس سے وصول کر لیا جائے، یا اس کے عوض تعمیر کرالی جائے، دوسرے کے مکان پر بغیر مالک کی رضا مندی واجازت کے جبرا قبضہ و تصرف کرنا ظلم اور غصب ہے، ہرگز جائز نہیں، جس کو ایک مقام پر ظالموں سے امن نہ ملے اور وہ مجبورا وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہو جائے، تو شرعاً درست ہے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو