مشترکہ لونڈی سے پیدا شدہ بچہ کا نسب اور جاریہ، زانیہ منکوحہ کا فرق
سوال
اگر ایک لونڈی دو آدمیوں کی شرکت میں تھی اور اس کو بچہ پیدا ہو گیا، اور اگر دونوں نے اکٹھا دعوی کیا تو نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا اور یہ لونڈی دونوں کی ام ولد ہوگی، اور وہ دونوں پر دونوں کے لئے نصف مہر واجب ہوگا، زید اس سے لے گا نہ وہ اس سے اشراق نوری ترجمه قدوری ص: ۱۸۳ سطر نمبر: ۶، اشکال یہ ہے کہ ایک لونڈی سے دو شخص کیسے مجامعت (صحبت) کریں گے، بیک وقت دونوں صحبت کریں گے تو کیا زنا کا حکم نہیں لگے گا؟ کیا بیک وقت دونوں کی صحبت جائز ہوگی؟ اگر ہو گی تو کیونکر دونوں کا نسب ثابت ہوگا، جب کہ ایک شیخ ہو دوسرا سید؟
جواب
(۱) مشترکہ لونڈی سے اس کے کسی مولی کو بھی مجامعت کی اجازت نہیں اگر وطی بالشبہ کر لی تو حد لازم نہیں: لان الحدود تندرء بالشبهات. اور جب کہ دونوں نے وطی بالشبہ کر لی اور پھر نسب کے دعوی کو فراش قائم ہونے کی وجہ سے دونوں میں سے کسی پر حد لازم نہ ہوگی اور نسب دونوں سے ثابت ہو جائے گا، پھر نصف نصف مہر ہر ایک پر لازم کر کے تقاصی کا حکم کر دیا جائے گا بچہ کو شیخوخت کا شرف بھی حاصل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔