اولاد زنا میں ثبوت نسب
سوال
زانیہ کی اولاد امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ اور امام احمد کے نزدیک حرام ہے اور امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جائز ہے، اور وہ دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث الحرام لا يفسد الحلال سے پیش کرتے ہیں، اور بعض صحابہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ جائز ہے، تو چونکہ صحابہ اور ائمہ میں اختلاف ہے، اس لئے اگر کوئی امام شافعی کے قول پر عمل کرے تو کر سکتا ہے یا نہیں؟ نیز اگر عمل کر لیا تو گنہگار ہوگا یا نہیں؟
جواب
جس عورت کے شوہر نہ ہو اس کے جو اولاد ہوگی وہ اولاد زنا ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، لقوله عليه السَّلامِ الْوَلَدُلِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، بخاری شریف اگر اس کے شوہر ہے، یا وہ عدت میں ہے، اس کے جو اولاد ہو، اس کو کلیہ حتمی طور پر اولاد زنا نہیں کہا جائے گا سائل نے اس مسئلہ میں عمل کو دریافت کیا ہے، تو تشریح طلب بات یہ ہے کہ کس کی دلیل کے تحت وہ کیا عمل کرنا چاہتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔