ثبوت نسب کی صورت
سوال
ایک عورت کا نکاح ایک مرد سے ہوا لیکن وہ عورت اپنے والدین کے گھر میں ہی رہی، اسی اثناء میں اسے حمل حرام ہو گیا اس حمل کے شروع میں یعنی دوسرے تیسرے مہینے اس کی روانگی سسرال میں ہوئی اور سسرال میں جا کر اس کے خاوند کو معلوم ہوا کہ اس عورت کو حمل حرام ہے، اس واسطے اس نے اس کو واپس میکہ میں روانہ کر دیا اور ساتھ ہی طلاق نامہ لکھ کر بذریعہ رجسٹری اس کو میکہ میں روانہ کر دیا، اب سوال یہ ہے کہ آیا جو بچہ پیدا ہو گا وہ اس مرد کا کہلائے گا یا نہیں، جبکہ اس زنا کاری کا ثبوت بھی مکمل موجود ہے۔
جواب
نکاح کے بعد چھ ماہ پورے ہونے سے قبل اگر بچہ پیدا ہوا تو وہ ثابت النسب نہیں، اگر چھ ماہ پورے ہونے کے بعد بچہ پیدا ہوا ہے تو اس کا نسب ثابت ہوگا، یعنی اس عورت کے شوہر ہی کا کہلائے گا خواہ شوہر اقرار کرے یا اقرار نہ کرے، بلکہ خاموش رہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔