داڑھی منڈے کو سلام اور اس کے سلام کا جواب اور اس کی اولاد کا حکم
سوال
ہمارے یہاں ایک مولوی صاحب ہیں، جو داڑھی منڈے کو در کنار داڑھی کترے کو بھی سلام نہیں کرتے ہیں، بلکہ سلام کا جواب دینا بھی حرام سمجھتے ہیں، ان سے جب سوال کیا تو جواب دیا کہ داڑھی کا ایک مشت رکھنا واجب ہے، اس کا تارک گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے، فاسق ہے، مردود الشہادۃ ہے، داڑھی کترانا حرام ہے، اس کی امامت، اقامت، اذان مکروہ تحریمی، جو مونچھوں کو نہ کترائے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے خارج ہے، اس کی نماز نا مقبول ہے، فاسق لعین ہے، داڑھی کترے کو سلام تو در کنار جواب دینا بھی حرام ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نہ ان…
جواب
داڑھی منڈانا حرام ہے، ایک مشت کے پہنچنے سے پہلے کترانا یا کترا کر ایک مشت سے کم کرا لینا کسی کے نزدیک بھی مباح نہیں، اس منڈانے اور کترنے میں غیر قوموں کے ساتھ تشبہ ہے، یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسا شخص مقبول الشہادۃ اور عادل نہیں، اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے: واما الاخذ منها وهى دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه احد واخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الاعاجم فتح.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔