نکاح فاسد میں ثبوت نسب
سوال
مطلقہ مغلظہ سے بغیر تحلیل نکاح کے بعد جو اولاد پیدا ہوان کے ثبوت نسب کے متعلق حسب ذیل چند عبارتیں نظر سے گذریں مذکورہ عبارات میں فصل ثبوت النسب میں در مختار، ہدایہ، نقایہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ دو سال کے بعد ولد ہونے کی صورت میں شوہر اگر دعویٰ کرے تو نسب ثابت ہوگا، ورنہ نہیں، نقایہ وہدایہ کی حدود کی عبارات بتاتی ہیں کہ اگر دعوی کرے تو بھی دو سال کے بعد ولد ثابت النسب نہیں اور ان میں وہی فی العدة کے الفاظ موجود ہیں، عالمگیری کی مذکورہ عبارات ثبوت نسب کے بارے میں صاف ہیں اور شوہر فساد نکاح جانتا ہو تو بھی…
جواب
سوال میں جو عبارت منقول ہیں ان میں سے پہلی عبارت اپنے مدعی میں نص ہے، لیکن حکم میراث سے اس میں تعرض نہیں بقیہ عبارات سے ضمناً بالالتزام ثبوت نسب کا مسئلہ مستفاد ہو سکتا ہے، صراحہ نہیں، جب کہ امام صاحب کے نزدیک علم بالحرمت وعدم علم بالحرمۃ ہر دو کا ایک ہی حکم ہے، تو شخص مذکور کے متعلق تحقیق وعدم تحقیق مساوی ہے، البتہ صاحبین کے نزدیک چونکہ حکم میں تفاوت ہے، اس لئے ذریعہ علم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔