الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کو ماں کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

(۱) ایک شخص نے حالت غصہ میں آکر اپنی بیوی کو کہا کہ تم ہمارے گھر سے نکل جاؤ تم ہماری ماں ہو اور ہم تمہاری اولاد اگر تم نہیں جاؤ گی ہمارے گھر سے تو تم کو ماریں گے، بی بی ڈر کر دوسرے گھر میں جا کر چھپ گئی بعدہ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو آئی اب وہ بی بی اس شخص کے لئے جائز ہے، یا نا جائز بلکہ چند آدمیوں نے یہ سب سخت کلامی کو سنا۔ (۲)

جواب

تم ہمارے گھر سے نکل جاؤ، اس لفظ سے اگر طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق بائنہ واقع ہوگئی اگر نیت نہیں کی تو طلاق نہیں ہوئی تم ہماری ماں ہو، اس لفظ سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے طلاق بائنہ کی صورت میں مرد وعورت کی رضامندی سے دوبارہ نکاح درست ہوتا ہے، بغیر نکاح کے رکھنا جائز نہیں ہے ہم تم کو طلاق دیدیں گے، اس لفظ سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے ایک طلاق دو طلاق کا خطاب اگر بیوی کو کیا ہے تو اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو