اگر میں فلاں کام کروں تو اپنی بیوی کو ماں بنالوں
سوال
زید وعمر دونوں ہم زلف ہیں، دونوں میں کسی بات پر کشیدگی ہوگئی تھی، ایک روز زید نے بحالت غصہ کہا کہ اگر عمر کی لڑکی کنیزہ سے اپنے لڑکے بکر کا نکاح کروں گا تو گویا میں اپنی بیوی کو ماں بنالوں گا، یہ بات متعدد مرتبہ کہا، بعد میں جب زید اور عمر میں کشیدگی ختم ہو گئی تو زید کے لڑکے اور عمر کی لڑکی کا آپس میں نکاح بھی ہو گیا، ایسی صورت میں زید کی منکوحہ بیوی زید کے عقد میں رہی یا نہیں؟
جواب
زید کا یہ جملہ نہایت بے ہودہ اور حماقت کا جملہ ہے، اس پر زید کو ندامت لازم ہے، آئندہ ہرگز ایسا نہ کہے، مگر اس سے نکاح ختم نہیں ہوا، وہ بدستور قائم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔