الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تو میری ماں ہے اور میں تیری اولاد ہوں کہنے کا حکم

سوال

مسماۃ سال نابالغی کی حالت میں نکاح ورخصت ہوئی، کچھ زمانہ مسماۃ مذکورہ کا اچھا گزرا، کچھ عرصہ کے بعد اس کے شوہر مسمی شہاب الدین نے بحالتیکہ مسماۃ نابالغہ ونا قابل جماع تھی، جماع کی خواہش کی اس پر برابر مصر رہا، مسماۃ اس سے منکر ومنحرف رہی، جس کی وجہ سے اس کو سخت زود کوب کی زحمت برداشت کرنی پڑی، اور جب کہ مسمی مذکور نے یہ بات دیکھ لی کہ اس میں کامیابی مشکل ہے تو اس سے دبر کی جانب بالجبر فعل کریہہ وممنوع کو اپنی عورت سے کرنا شروع کیا حسب سابق زوجین میں اس پر بگڑ ہو گیا، غرضیکہ جب لڑکی اس مرد کے خلاف تھی تو وہ برابر…

جواب

مسماۃ کا نکاح اس کے باپ نے کیا ہے، لہذا خیار بلوغ حاصل نہیں شوہر نے صاف لفظوں میں طلاق نہیں دی، صرف ایک لفظ کہا ہے کہ تو میری ماں ہے اور میں تیری اولاد ہوں، اس لفظ سے نہ طلاق ہوتی ہے نہ زوجہ حرام ہوئی اگر چہ اس لفظ کا کہنا مکروہ ہے لہذا مسماۃ کو چاہئے کہ اپنی شکایت حاکم مسلم با اختیار کی عدالت میں پیش کرے اس پر حاکم شوہر کو بلا کر کہے کہ تم اپنی زوجہ کے حقوق موافق شرع ادا کرو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو