الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایلاء

سوال

زید کی دو بیویاں ہیں ایک روز گھر میں جھگڑا ہو رہا تھا، کہ زید نے کہا کہ زوجہ اولی صرف چار ماہ تک اس گھر میں رہ سکتی ہے، اس کے بعد اس کا جمعہ سے پردہ ہو جائے گا، سوال یہ ہے کہ اس پر ایلاء کا اطلاق ہوگا یا نہیں، اور یہ بھی کہا کہ اپنے والدین کے گھر چلی جاو اور کسی سے نکاح ثانی کر لے ان الفاظ کے لئے کیا حکم ہے، زید کی والدہ زوجہ اولی کو رکھنے کے لئے گھر میں تیار نہیں اس لئے یہ جھگڑا چل رہا ہے، زید والدہ پر بھی مظالم کر رہا ہے کیا زید والدہ کے کہنے سے زوجہ اولیٰ کو طلاق دیدے۔ شرعی کیا حکم ہے؟ فقط

جواب

زید کے الفاظ کہ زوجہ اولی چار ماہ تک اس گھر میں رہ سکتی ہے، اس کے بعد اس کا مجھ سے پردہ ہو جائے گا، ایلاء کے الفاظ نہیں ہیں، ان سے ایلاء نہیں ہوا، ایلاء میں بیوی کو چار ماہ کے لئے حرام قرار دیا جاتا ہے یہاں چار ماہ کے لئے جائز قرار دے رہا ہے جو کہ ایلاء کی ضد ہے، البتہ ان الفاظ میں طلاق کا احتمال ہے، مگر وہ نیت پر موقوف ہے، اسی طرح یہ کہا کہ اپنے والدین کے گھر چلی جا، کسی سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو