لعان کی تفصیلات
سوال
(۱) مسماۃ ہندہ پاک دامن نہیں ہے، کیونکہ مسماۃ ہندہ نے کافی طور پر زنا وحرام کیا ہے زنا کی تہمت پر لعان واجب ہوگا یا نہیں۔ (۲) مسمی زید شوہر مسماۃ ہندہ نے بچشم خود زنا کاری کی حالت میں نہیں دیکھا البتہ قرائن سے ونیز اہل محلہ کے نامحرم مردوں سے شوہر کے منع کرنے پر بھی بضد ہو کر پردہ نہ کرنے پر مسماۃ ہندہ کی نسبت شبہہ زنا کاری کی طرف ہوتی ہے، اس تہمت سے مسماۃ ہندہ شوہر خود سے نا خوش ہو کر لعان چاہتی ہے، پس ایسی صورت میں لعان واجب ہوگا یا نہیں؟ (۳)
جواب
(۱) لعان کے لئے دار الاسلام شرط ہے، لہذا ہندوستان میں لعان واجب نہیں ويشترط ايضاً كون القذف بصريح الزنا وكونه في دار الاسلام رد المحتار ص: ۹۰۵، ج: ۲ (۲) لعان واجب نہ ہوگا لیکن بلا ثبوت شرعی زنا کی تہمت لگانا بھی حرام ہے اور عورت کو غیر مردوں سے پردہ نہ کرنا اور ایسا تعلق رکھنا کہ جس سے زنا کی بدگمانی اور تہمت کا لوگوں کو موقع ملے یہ بھی حرام ہے، تہمت کی جگہ سے نہ بچنا حرام ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔