الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا ایک بیوی کے چھوڑنے سے دونوں ہی چھوٹ جائیں گی؟

سوال

میں نے پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی چچازاد بہن سے دوسرا نکاح کیا، نکاح ثانی کے وقت پہلی بیوی کے والد صاحب نے مجھ سے کہا کہ میری بیٹی اور میری بھتیجی دونوں میں سے کسی ایک کو چھوڑ دو گے تو کیا ہوگا، تب جواباً میں نے کہا تھا کہ میں قرآن اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کسی ایک کو چھوڑ نے سے دونوں ہی چھوٹ جائیں گی، کچھ دن کے بعد میرا کام کاج نہ کرنے اور پانچ وقت نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے میں نے غصہ ہو کر اپنی دوسری بیوی کو ایک طلاق دو طلاق تین طلاق بائن دے دی، اب سوال یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں میری دونوں بیویوں پر طلاق…

جواب

دوسری بیوی کو تو صاف صاف طلاق دے ہی دی ہے، مگر پہلی پر بھی طلاق ہوگئی، بشرطیکہ پہلی بیوی کے والد صاحب کی بات کا جواب دوسرے نکاح کے بعد دیا ہو یعنی یہ جملہ کسی ایک کے چھوڑ نے سے دونوں ہی چھوٹ جائیں گی دوسرے سے نکاح کے بعد کہا ہو: واذا اضافه الى شرط وقع عقيب الشرط ا ه هدايه ص: ۳۶۴، ج: ۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو