طلاق معلقه ومغلظه
سوال
زید اور اس کے شرکاء نے عمر سے کہا کہ تم سے ایک کام ہے، تم ہمارے ساتھ موضع علی پور تک چلو، وہاں گئے تو کہا ہندہ ایک لڑکی بالغ ہے، اچھی ہے، اور شرعی لحاظ سے کوئی کمی نہیں ہے، لہذا تم (عمر) اس سے نکاح کر لو، موضع کے لوگوں نے بھی عمر کو تسلی وتشفی دی کہ لڑکی ٹھیک ہے، عمر نے ہندہ سے نکاح اس شرط پر کیا کہ اگر ہندہ بالغہ ہے تو میں نکاح کر لیتا ہوں، نکاح کے بعد جب ہندہ عمر کے یہاں آئی تو معلوم ہوا کہ یہ تو نابالغہ ہے، پھر عمر اس کو واپس زید کے گھر چھوڑ آیا، کچھ دن بعد زید نے اس لڑکی ہندہ کو غائب کر دیا عمر نے پھر اپنی طرف…
جواب
اگر ہندہ نابالغہ تھی اور اس کا کوئی ولی نکاح کرنے والوں میں نہیں تھا، تو شرعاً یہ نکاح ولی کی اجازت پر موقوف تھا جب تک ولی اجازت نہ دے اس کو عمر کے پاس بھیجنا اور عمر کا خلوت میں جانچ کرنا کہ یہ نابالغہ ہے یا بالغہ شرعاً درست نہیں تھا، بلکہ یہ معصیت کا ارتکاب ہوا، توبہ واستغفار لازم ہے اگر ہندہ کے کوئی ولی نہیں تو یہ نکاح بالکل بیکار ہوا، شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں کہ ہندہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔