بدکاری کا عہد اور مفعولیت کا ارتکاب
سوال
زید کو غلط کاری کی عادت تھی، ایک دن اس نے کہا کہ آئندہ جب میں لونڈے بازی کروں، تو میری بیوی کو طلاق کچھ مدت گذر جانے کے بعد زید سے بصورت مفعولیت غلط کاری سرزد ہو گئی، جب کہ مذکورہ بالا الفاظ عرف عام میں حالت فاعل کے لیے استعمال ہوتے ہیں زید کو شک رہتا ہے کہ کہیں تو نے حالت مفعول کو بھی تعلیق طلاق میں شامل تو نہیں کیا تھا، حالانکہ قلبی رجحان اسی طرف ہے کہ اس نے مذکورہ بالا الفاظ ہی کا تلفظ کیا تھا، حالت مفعول کے بارے میں شک پریشان کرتا رہتا ہے، تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی؟
جواب
شرعاً تو دونوں ہی کام (فاعلیت ومفعولیت) قابل لعنت ہیں مگر ایمان کا مورد عرف پر ہوتا ہے، اس لئے صورت مسئولہ میں اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی صرف لعنت باقی رہے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔