الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر تو نے زنا کیا ہو اور نہ بتلایا تو تین طلاق

سوال

(۱) شوہر شبہ کی بناء پر اپنی عورت کو زانیہ کہتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو نے زنا کیا ہوگا اور تو نہیں بتلائیگی تو میری طرف سے تجھ کو آج سے تین طلاق۔ پھر تقریباً چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوا پھر اس کی باز پرس ہوئی کیونکہ یہ بچہ غیر محرم کی شکل کا ہے۔ (۲) اگر زید کی بیوی زنا کا اقرار کر لے کہ واقعی یہ حرام کا ہے تو طلاق پڑ جاوے گی، یا نہیں، جب کہ دونوں ہم بستر بھی ہوتے رہے ہوں۔ (۳) اگر طلاق واقع ہوگئی تو زید کی بیوی زید کیلئے کیسے حلال ہو سکتی ہے؟

جواب

(۱) زید کا اپنی بیوی کو زانیہ کہنا جائز نہیں؟ بہت بڑا جرم ہے، جب تک زنا کا ثبوت نہ ہو جائے، اس کی بیوی پر اس کہنے کی وجہ سے طلاق نہیں پڑے گی۔ (۲) بیوی اگر اقرار کرے گی تو طلاق نہیں ہوگی، طلاق مغلظہ جب ہوگی کہ طلاق کا ثبوت دوسرے طریقہ پر ہو اور بیوی اقرار نہ کرے۔ (۳) اگر طلاق مغلظہ ہو جائے گی تو پھر بغیر حلالہ کے اس سے دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو