جماع نہ کرنے پر طلاق کو معلق کرنا
سوال
زید نے رات کو اپنی بیوی سے جماع کرنا چاہا، اس کی بیوی نے شوہر سے کہا کہ میں یہ کام نہیں کروں گی، زید نے کہا کہ جب تو یہ کام نہیں کرے گی، تو میں نے تجھے طلاق دیدی اور یہ الفاظ زید نے نہ جانے کتنی بار کہے، اس کے بعد قریب ۷/۶/ ماہ گذرنے پر وہ عورت جماع کے لئے تیار ہوگئی، پھر جماع کیا اور ان کے یہاں بچہ بھی پیدا ہوا، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مذکورہ بالا صورت میں طلاق واقع ہوگئی؟
جواب
اگر بیوی کا مقصد یہ تھا کہ میں اس وقت یہ کام نہیں کروں گی، (اس وقت کوئی عذر ہوگا) اس پر شوہر نے اسوقت اصرار کیا اور مقصد یہ تھا کہ اسوقت اگر نہیں کریگی، تو تجھے طلاق دیدی اور تین دفعہ کہہ دیا تو اسی وقت طلاق مغلظہ ہوگئی اگر بیوی کا مقصد یہ تھا کہ میں عمر بھر یہ کام نہیں کرونگی، اور شوہر نے بھی یہی کہا کہ اگر عمر بھر نہیں کریگی، تو تجھے طلاق، پھر ۷٫۶ ماہ بعد یہ کام کر لیا تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔