الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق کو آوارہ گردی پر معلق کرنا

سوال

تفصیل اقرار نامہ: حافظ عبد الوہاب کا بیان ہے، کہ برخوردار ایک دن کچھ مٹھائی اور کپڑا اپنی بیوی کے لئے لے کر میرے مکان پر آیا جب کہ میری بیوی رخصت ہو کر اپنے میکے آئی تھی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ برخوردار یعنی میری بیٹی کا شوہر ایک دن چھری لے کر میرے بڑے بیٹے برکت اللہ کو مارنے بھی آیا تھا لیکن برخوردار صرف پہلے واقعہ یعنی مٹھائی اور کپڑا لانے کا اقراری ہے، اور دوسرے یعنی چھری والے واقعہ کا منکر ہے، پس ایسی صورت میں یہ واقعہ خلاف اس اقرار نامہ کے ہوگا، جس پر طلاق کو معلق کیا ہے، یا نہیں؟

جواب

بیوی کے لئے مٹھائی وکپڑا لے کر جانا شرعاً کوئی عیب یا آوارہ گردی نہیں محض اس کی وجہ سے طلاق نہیں ہوگی، یہ اقرار نامہ کی خلاف ورزی نہیں ہے، اور کسی قسم کی تکلیف اپنی بیوی کو پہنچائی ہو تو شرعی ثبوت کے بعد اس پر حکم جاری ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو